پٹرولیم ڈیلزر کو بچانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں،مرکزی رہنما آل پاکستان پٹرولیم ایسوسی ایشن
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اپریل2020ء)آل پاکستان پٹرولیم ایسوسی ایشن اور سی این جی ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنماغیاث عبداللہ پراچہ نے کہا ہے کہ پٹرولیم ڈیلرز کا کاروبار تباہی کے دہانے تک پہنچ گیا ہے جسے بچانے کے لئے حکومت فوری مداخلت کرے۔پٹرولیم ڈیلرز کے اخراجات بڑھ رہے ہیں جبکہ منافع کم ہو رہا ہے اس لئے اس سیکٹر کو بجلی کے بل اور ٹیکسوں میں ریلیف دیا جائے۔
غیاث عبداللہ پراچہ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بہت کم ہو گئی ہیں جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پٹرولیم ڈیلزر کے منافع کا نیا فارمولا بنایا جائے جس کے لئے حکومت سے ہر ممکن تعاون کریں گے۔
نھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم کی قیمتوں میںاچانک کمی کی وجہ سے ڈیلروں کو لاکھوں روپے کانقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اسکے علاوہ ملک گیر لاک ڈائون کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی فروخت بہت کم ہو گئی ہے جبکہ حکومت کی ہدایت ہر کئے جانے والے حفاظتی اقدامات کی وجہ سے کاروباری لاگت بڑھ گئی ہے۔ وائرس کی وبا سے قبل ملک بھر میں پٹرولیم سپلائی چین درست کام کر رہی تھی جس میں اب تعطل پیدا ہونا معمول بن گیا ہے جسکی وجہ سے ڈیلروں کو ایندھن کا زیادہ سٹاک رکھنا پڑتا ہے جس سے اخراجات بڑھ گئے ہیں جبکہ زیادہ بخارات اڑنے سے نقصان بڑھ جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ زمین کی قیمت اور کرائے بہت بڑھ گئے ہیں اس لئے صرف پٹرول بیچ کرکاروبار چلانا مشکل ہے
اس لئے پٹرول پمپوں پرکمرشل ایکٹوٹی کی اجازت دی جائے، پٹرول بھرنے والی مشینوں کا آپس کا فاصلہ کم کیا جائے جبکہ نئے قوانین کے تحت منافع کا از سر نو تعین کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ایک طرف تو نقصانات بڑھ رہے ہیں جبکہ دوسری طرف فکسڈ چارجز میں کوئی کمی نہیں آئی ہے نہ ہی ملازمین کو نوکری سے نکالا گیا ہے جس سے ملک بھر کے پٹرولیم ڈیلرز پر مالی دبائو بڑھ گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ تمام سیکٹر سبسڈی مانگتے ہیں مگر پٹرولیم اور سی این جی وہ سیکٹر ہیں جو سبسڈی نہیں بلکہ اپنا حق مانگتے ہیںاس لئے حکومت انکے مسائل کو توجہ دے۔

hello Faisal bhai
ReplyDelete